Tuesday, 5 May 2020

وزیراعظم نے ایک اور ترکش ڈرامہ نشر کی خواہش کردی{{


[وزیر اعظم عمران خان نے صوفی ازم پر مبنی ایک اور ترکش ڈرامہ’یونس ایمرے‘پاکستان میں ٹیلی کاسٹ کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے اپنے ٹوئٹ میں عمران خان کی اس ڈرامے کو اردو میں ڈب کرکے پی ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ کرنے کی خواہش کا بتاتے ہوئے لکھا کہ ’یونس ایمرے‘ ترکی کے ایک صوفی شاعر اور درویش کی زندگی پر مبنی ہے جس نے اپنی زندگی تلاش حق کے لیے وقف کردی تھی۔
اس ڈرامہ کی تحریر بھی مہمت بزداغ نے ہی کی ہے جنہوں نے ڈرامہ ارطغرل غازی لکھا تھا۔
اناطولیہ کے اِس درویش، صوفی بزرگ اور خداداد صلاحیتوں کے مالک شاعر مولانا جلال الدین رومی کے ہم عصروں میں شامل تھے اسی لئے انہیں ’رومی ثانی‘ کہا جاتا ہے۔
ترکی کے سرکاری چینل پر نشر کی جانے والی مقبول سیریز ’یونس ایمرے‘ 2015 میں نشر ہونا شروع ہوئی جو دو سیزن پر مشتمل ہے، دونوں سیزن کی مجموعی اقساط کی تعداد 45 ہے۔
صوفی شاعر اور درویش یونس ایمرے 1238 میں پیدا ہوئے اور 1320 عیسوی میں دنیا سے رخصت ہوئے، کئی صدیاں بیت جانے کے بعد آج بھی وہ ترکوں کی محبوب شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ترکی باشندوں میں یونس ایمرے کا کلام آج بھی مقبول ہے اور ان کا نام نہایت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال ایک تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم پاکستان عمران خان نے تاریخی ترک ڈرامے ’دیرلیش ارطغرل‘ کا اپنی تقریر میں ذکر کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ترک سیریز اردو میں ڈب ہو تاکہ ہمارے لوگوں کو مسلمانوں کی تاریخ کا پتہ چلےجس کے بعد پی ٹی وی پر یکم رمضان سے ارطغرل غازی نشر کیا جارہا ہے۔]

Monday, 4 May 2020

ایل او سی پر بھارتی خلاف ورزیاں بڑھتی جا رہی ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر))

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول  (ایل او سی) پر بھارتی خلاف ورزیاں بڑھتی جا رہی ہیں، بھارت کی غیر سنجیدگی سے خطے کے حالات غلط سمت کی جانب جا سکتے ہیں۔

نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ملٹری قیادت کے بیانات غیر سنجیدہ ہیں ، یہ بیان کہ پاکستان نے بھارت میں کورونا پھیلایا مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ لانچ پیڈ سےمتعلق بھارتی بیانات بھی بےبنیاد ہیں،ان کےاپنےسیٹلائٹ ہیں بتائیں کہاں ہیں ثبوت؟

ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابر افتخار نے کہا ہےکہ بھارت کے بے بنیاد الزامات پر ہمیشہ کہا کوئی شواہد ہیں تو سامنے لائیں۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ایل اوسی پراجازت دیتے ہیں عالمی مبصرین آئیں اور دورہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایل اوسی پر صورتحال انتہائی کشیدہ ہو تی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کےساتھ سلوک کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے، وہاں مسلمانوں کےساتھ جو ہو رہا ہےدنیا کو اس پر توجہ دینا ہو گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کےجھنڈے کا سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کر رہا ہے جبکہ یوایس مذہبی کمیشن کی رپورٹ میں بھی پاکستان کی تعریف کی گئی ہے۔

((ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنےاندرونی معاملات کو پاکستان سےجوڑ رہا ہے۔))

کورونا کے مزید 750کیسز رپورٹ ہوئے ،مریضوں کی مجموعی تعداد 20884 تک پہنچ گئی)))



ملک بھر میں پیرکوکورونا وائرس کے باعث مزید 17 افراد جا ن کی بازی ہار گئے جس کے بعد جاں}} بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 476ہو گئی جبکہ مزید 750نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، نئے کیسز سامنے آنے سے مصدقہ مریضوں کی تعداد 20884تک جاپہنچی ہے۔اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 185 افراد انتقال کرچکے ہیں جبکہ سندھ میں 137اور پنجاب میں 126افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 21، اسلام آباد 4 اور گلگت بلتستان میں 3 افراد مہلک وائرس کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھرکل  121،511ٹیسٹ ہوئے ہیں،جبکہ 5590مریض صحتیاب  ہوگئے ہیں۔سندھ میں  کورونا کے مزید 417 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 7ہلاکتیں بھی سامنے آئیں جس کی تصدیق وزیراعلی سندھ نے کی۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے مزید 2571ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 417نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد صوبے میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 7882 ہوگئی۔وزیراعلی کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں میں کورونا سے مزید 7افراد انتقال کرگئے اور اس طرح ہلاکتوں کی تعداد 137تک جا پہنچی ہے۔اس کے علاوہ صوبے میں 24گھنٹوں کے دوران مزید 74مریض صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 1629 ہوگئی ہے۔پنجاب سے  کورونا کے مزید 152کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 5 ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے کی۔ترجمان کے مطابق صوبے میں کورونا کے کیسز کی مجموعی تعداد 7646 اور اموات 126 ہوگئی ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ صوبے میں 768زائرین، 1926تبلیغی ارکان، 86قیدی اور 4866عام شہری کورونا وائرس میں مبتلا ہیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق صوبے میں کورونا سے اب تک 2680افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے مزید 22 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔سرکاری پورٹل کے مطابق نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 415ہوگئی ہے جبکہ شہر میں وائرس سے اب تک 4افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔خیبر پختونخوا میں کورونا سے مزید 5افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 185تک جاپہنچی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں مزید 159افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3288ہوگئی ہے۔محکمہ صحت نے بتایاکہ صوبے میں اب تک کورونا سے 856افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔ پرتگال نے کورونا وائرس کے باعث نافذ ہنگامی صورتحال اٹھا لی، لاک ڈاون میں نرمی کااعلان

پرتگال نے کورونا وائرس کے باعث نافذ ہنگامی صورتحال اٹھا لی، لاک ڈاون میں نرمی کااعلان...

Sunday, 3 May 2020

وزیراعظم کی ٹائیگر فورس کے رضاکاروں اور ضلع انتظامیہ کے مابین پہلا اجلاس)

لاہور: (03 مئی 2020) وزیراعظم کی ٹائیگر فورس کے رضاکاروں اور ضلع انتظامیہ کے مابین پہلا اجلاس منعقد ہوا۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اصغر جوئیہ کی زیرصدارت ٹائیگر فورس کے رضاکاروں کا پہلا اجلاس ہوا جس میں رضا کاروں کو کام اور ذمہ داری کے حوالے سے  بریفنگ دی گئی۔ چیف کارپوریشن آفیسر ایم سی ایل سید علی عباس بخاری اور ایس پی سیکیورٹی بلال ظفر بھی اجلاس میں موجود تھے
اے ڈی سی آراصغر جوئیہ نے کہا کہ ٹائیگر فورس کے رضاکار بلامعاوضہ خدمات سرانجام دیں گے۔ ٹائیگر فورس کے رضاکار قرنطینہ سینٹرز کے باہر اور لاک ڈاؤن ایریاز میں ریلیف کے کاموں کو بھی سرانجام دیں گے۔ رضاکار گراں فروشی اور پرائس کنٹرول جیسے ٹاسک بھی پورے کریں گے۔ ضلعی انتظامیہ اور سرکاری ادارے ٹائیگر فورس کے رضاکاروں کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔
اصغر جوئیہ نے کہا کہ تاریخ میں پہلی اتنی بڑی تعدادمیں نوجوانوں نے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا ہے۔ فی الحال کورونا وائرس کے باعث مشکلات کا شکار ہم وطنوں کی خدمت کے امور ٹائیگر فورس کے رضاکار انجام دیں گے

قطر کے رنگ بدلتے سڑک جنھیں دیکھیں تو آنکھوں پر یقین نہ آئےجانیں اس کی حقیقت))


دنیا بھر میں ہر جگہ سڑکیں یا تو سفید اور کالے رنگ کی ہوتی ہیں یا پھر ان پر تیر کے نشانات پیلے اور لال رنگ سے نشاندہی کے لئے اور سڑک کی اونچائی یا گہرائی کو بتانے کے لئے لگائے جاتے ہیں۔

مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں وہ کونسا ملک ہے جس میں ہر طرف نیلے آسمانی رنگ کی فلک نما سڑکیں ہیں؟

اسلامی ملک قطر جس کی آبادی 3 کروڑ کے نزدیک ہے اس ملک میں ہر طرف نیلے آسمانی رنگ کی سڑکیں پائی جاتی ہیں۔
کیوں
کیونکہ یہ ایک گرم ملک ہے اور گرمی کی شدت سے سڑکوں کا ڈامر پگھل جاتا تھا اور ہر سال نئی سڑکوں کی تعمیر آسان نہ تھی۔

لہٰذا قطری حکومت نے ٹیکنیکل انجینئیرز کی مدد سے یہاں نیلی رنگ کی سڑکیں بنائی۔

اس رنگ کی سڑکیں سورج کی دھوپ اور تپش کو اپنے اندر جذب ہونے نہیں دیتی اور فرش ٹھنڈے رکھتی ہیں۔

اس لئے یہاں نیلے فرش بنائے گئے ہیں۔ جن پر گرمی کے دنوں میں بغیر جوتوں کے بھی چلا =جاسکتا ہے

Friday, 1 May 2020

شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی کو کرونا ٹیسٹ کروانا ہوگا ایک نیا قانون آنے والا ہے، شادی کے خواہش مندوں کو ایک سرٹیفکیٹ دینا ہوگا جس میں منفی کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ ہونی چاہیئے: سی ای او اخووٹ فاونڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب

01 مئی2020ء) شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی کو کرونا ٹیسٹ کروانا ہوگا، سی ای او اخووٹ فاونڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب کا کہنا ہے کہ ایک نیا قانون آنے والا ہے، شادی کے خواہش مندوں کو ایک سرٹیفکیٹ دینا ہوگا جس میں منفی کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ ہونی چاہیئے۔ تفصیلات کے مطابق ملک کی مشہور فلاحی تنظیم کے سی ای او ڈاکٹر امجد ثاقب کے مطابق ملک میں شادی سے قبل لڑکا اور لڑکی کیلئے کرونا ٹیسٹ کروانا لازم قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر امجد ثاقب کا بتانا ہے کہ جلد ایک نیا قانون آنے والا ہے جس میں شادی سے قبل لڑکا اور لڑکی کو کرونا ٹیسٹ کروانے کا پابندی کیا جائے گا۔ لڑکا اور لڑکی کو شادی سے قبل ایک سرٹیفکیٹ دینا ہوگا، جس میں بتانا ہوگا کہ انہوں نے کرونا ٹیسٹ کروایا، اور رپورٹ منفی آئی۔

باپ کے مرنے کے بعد اس کی گدی سنبھالنے والا کم عمر موچی لیبر ڈے منانے والوں کے لیے سوالیہ نشان


یوم مئی کو دنیا بھر میں مزدوروں کے عالمی دن کے مطابق گزارا جاتا ہے اور اس دن دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے- کہیں ان کی تنخواہوں کے بڑھانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہیں ان کو صحت کی سہولت فراہم کرنے کی آواز اٹھائی جاتی ہے تو کوئی مزدورں کی انشورنس کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو کچھ خواتین بھی سامنے آجاتی ہیں جن کا نعرہ ہوتا ہے کہ ان کی تنخواہیں بھی مردوں کی تنخواہوں کے برابر کی جائيں اور ان کو بھی کام کرنےکے یکساں مواقع فراہم کیۓ جائيں ۔ ان بڑی بڑی آوازوں کے سامنے کچھ چھوٹے معصوم بچے بھی ہاتھوں میں پلے کارڈ لیے موجود ہوتے ہیں مگر ان پلے کارڈ پر مطالبے یکسر مختلف ہوتے ہیں ان پر لکھا ہوتا ہے ہمیں بچپن دے دو ، ہمیں پڑھنے دو ، ہمیں کھیلنے دو

یوم مئی کے ان تمام نعروں اور ان تمام باتوں سے بے خبر مانسہرہ ڈسٹرکٹ خیبر پختونخواہ کے دس سالہ زبیر خان اپنے موچی کے تھڑے پر بیٹھے شدید گرمی میں بھی اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے جوتے گانٹھ رہا تھا ۔ جب زبیر سے اس کم عمری میں اس کام کے بارے میں پوچھا گیا تواس کا کہنا تھا کہ میں اسکول جاتا تھا اور ہمیشہ اپنی جماعت میں پہلے نمبر پر آتا تھا مگر پھر میرے ابو کا انتقال ہو گیا ہمارے گھر میں کمانے والا کوئی نہ تھا باقی سب بہن بھائی چھوٹے تھے اس وجہ سے بڑے بھائی کی حیثیت سے مجھے اپنے ابو کی گدی سنبھالنی پڑی اور مجھے تعلیم چھوڑ کر موچی کی دکان پر بیٹھنا پڑا-
خوبصورت سرخ و سپید رنگت پر جوتوں کی پالشوں کے دھبے اور نرم و نازک ہاتھ جن کو قلم تھامنا چاہیے تھا جوتے گانٹھنے کے اوزار سنبھالے یوم مئی منانے والے ان تمام افراد کا منہ چڑا رہے تھے-ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے اندر اس وقت بھی تمام تر قانون سازی کے باوجود زبیر خان جبیسے سات لاکھ بچے اسکولوں سے دور محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں-

بچوں کی مزدوری کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ چونکہ ان بچوں کا شناختی کارڈ نہیں بنا ہوتا ہے اس وجہ سے ان سے کام تو لیا جاتا ہے مگر ان کا اندراج کسی بھی جگہ ظاہر نہیں کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک جانب تو ان کو کام کرنے کا بہت قلیل معاوضہ دیا جاتا ہے دوسری جانب ان کی نوکری کی نہ کوئی گارنٹی ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے بدلے ان کو صحت و انشورنس جیسی کوئی سہولت میسر ہوتی ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ ان بچوں کے بچپن کے بدلے ان سے بیگار لیا جاتا ہے

یوم مئی کو جہاں لوگ کرونا وائرس کے سبب ہونے والے لاک ڈاون کے سبب بے روزگار ہونے والے مزدوروں کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں وہیں انہیں خود سے یہ بھی عہد کرنا چاہیے کہ حالات چاہے کیسے بھی ہوں عوام اور ریاست کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ کسی بھی بچے کو اس کے بچپن سے محروم کر کے اسکول سے دور کر کے مزدوری پر نہیں لگائیں گے اور یہی آج ہم سب کا چارٹر آف ڈیمانڈ ہونا چاہیے کیوں کہ بچے پڑھیں گے تو ملک ترقی کرے گا-

Qasim auto decoration Khushab