Tuesday, 28 April 2020

شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کی جگہ کون لے سکتا ہے




شمالی کوریا کا سرکاری میڈیا اپنے ملک میں ہر چیز کے ٹھیک ہونے کا پیغام دے رہا ہے لیکن دنیا کے دوسرے حصوں میں شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ان کی شدید بیماری کے ساتھ ان کی موت کے بارے میں بھی افواہوں کا بازار گرم ہے۔
ان کی صحت کے متعلق قیاس آرائیوں کا یہ دور 15 اپریل کے بعد شروع ہوا کیوں کہ کم جونگ اُن اس دن اپنے دادا اور شمالی کوریا کے بانی کم اِل سونگ کی سالگرہ کی تقریبات میں شریک نہیں ہوئے تھے۔
جنوبی کوریا اور امریکہ کی حکومتوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا میں ایسی کوئی غیر معمولی سرگرمی نہیں دیکھی گئی ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کم جونگ ان شدید بیمار ہیں یا ان کی موت ہوگئی ہے۔ لیکن جب تک شمالی کوریا کی حکومت کے زیرکنٹرول میڈیا اس کے متعلق کوئی اعلان نہیں کرتا اس وقت تک کم جونگ ان کے بارے میں افواہوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اگر یہ افواہیں درست ہیں تو پھر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کی حیثیت سے کِم جونگ ان کی جگہ کون لے گا؟
اس بارے میں

آئیے ایسے ہی کچھ دعویداروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

کِم یو جونگ

کم جونگ ان کی چھوٹی بہن کم یو جونگ کو شمالی کوریا میں ملک کے نئے رہنما کے لیے پہلی پسند کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
31 سالہ کم یو جونگ اپنے بھائی کی طرح مغربی ملک سوئٹزرلینڈ میں تعلیم حاصل کر چکی ہیں۔ وہ پولٹ بیورو کی رکن ہیں اور ملک کے سب سے اہم پبلسٹی اینڈ موومنٹ ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی ہیں۔
انھیں کِم جونگ ان کی 'سیکرٹ ڈائری' کے طور پر بھی شہرت حاصل ہے۔ ایسا خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ کم جونگ ان کے روز مرہ کے کام کاج میں بھی یو جونگ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو پالیسی معاملات پر بھی مشورہ دیتی ہیں۔ کم یو جونگ نام نہاد 'ماؤنٹ پیکٹو بلڈ لائن' کی رکن بھی ہیں جو کہ کم اِل سونگ کی براہ راست نسل کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور جن کا شمالی کوریا کی سیاست میں اہم کردار رہا ہے۔
لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی جانب سے غلطیوں کا زیادہ امکان رہتا ہے۔
گذشتہ دنوں کِم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے دوران چھپ کر جھانکتی ہوئی ان کی تصویر کی وجہ سے کم جونگ ان کو سبکی ہوئی تھی۔ بہر حال کم یو جونگ نے پہلی بار اس طرح کی حرکت نہیں کی تھی۔
لیکن ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا شمالی کوریا کسی خاتون کی قیادت کے لیے تیار ہے؟ شمالی کوریا کے سیاسی اور معاشرتی نظام میں خواتین کا اہم کردار ہے لیکن طاقتور پوزیشن پر ان کی موجودگی انتہائی کم ہے۔
ایسی صورتحال میں کیا وہ کِم خاندان کی رکن کی حیثیت سے پدرشاہی معاشرے کے چیلینج پر فتح حاصل کر سکیں گی؟

کم جونگ چول

کم جونگ ان کے بڑے بھائی کِم جونگ چول ہیں۔ ان کے والد نے انھیں شمالی کوریا کے مستقبل کے رہنما کی حیثیت سے تیار کیا تھا لیکن کم جونگ چول نے فوج اور سیاست میں زیادہ جوش و خروش نہ دکھایا تو پھر اس کے بعد کم جونگ ان کو ان کی جگہ دے دی گئی۔
کم جونگ چول کو بھی عام طور پر عوام میں نہیں دیکھا جاتا ہے۔ انھیں سنہ 2015 میں لندن میں اس وقت دیکھا گیا تھا جب وہ اپنے پسندیدہ گٹارسٹ ایرک کالپٹن کے رائل البرٹ ہال میں منعقدہ ایک کنسرٹ میں نظر آئے تھے۔
لیکن کیا انھیں ملک کی قیادت حاصل ہوگی؟ اس کا امکان بہت کم ہے۔

کم پیونگ ال

سابق بیوروکریٹ کم پیونگ ال شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے چچا ہیں یعنی شمالی کوریا کے دوسرے سپریم لیڈر کِم جونگ ال کے سوتیلے بھائی ہیں۔
وہ شمالی کوریا کے پہلے سپریم لیڈر کِم اِل سونگ کے بیٹے کی حیثیت سے ماؤنٹ پیکٹو بلڈ لائن کے رکن بھی ہیں۔ ایک زمانے میں انھیں کم جونگ ال کے لیے خطرہ سمجھا جاتا تھا لہذا کم پیونگ ال کو چار دہائیوں تک مختلف یورپی ممالک میں بطور سفیر ملک سے باہر رکھا گیا تھا۔
کم پیونگ ال 65 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے کے بعد گذشتہ سال پیانگ یانگ واپس آئے ہیں۔ ان کے قیادت سنبھالنے یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے‘۔

کم جے ریونگ

کِم نام ہونے کے بعد بھی کوریا کے وزیر اعظم کِم جے ریونگ کم خاندان سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ دراصل شمالی اور جنوبی کوریا دونوں جگہ کم ایک عام نام ہے۔
سنہ 2016 سے پہلے زیادہ لوگ جے ریونگ کے بارے میں نہیں جانتے تھے لیکن اس کے بعد انھوں نے مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔ ایک سال قبل وہ شمالی کوریا کی پارلیمنٹ پہنچے اور اچانک ایک ماہ کے اندر ہی انہیں وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا۔ انھوں نے پولیٹ بیورو کی رکنیت حاصل کی اور انھیں سینٹرل ملٹری کمیشن میں بھی جگہ ملی۔
کِم جے حکمراں خاندان کے فرد نہیں ہیں لیکن کِم خاندان کی جانب سے مناسب امیدوار کے نام کے سامنے آنے تک وہ اس کردار کے لیے موزوں سمجھے جا سکتے ہیں۔

جانشین کا انتخاب کس طرح ہوگا؟

سنہ 1948 میں شمالی کوریا کے قیام کے بعد سے ہی وہاں کِم خاندان کے افراد کی حکومت رہی ہے۔
ملک کے نئے قائد کا باضابطہ اعلان شمالی کوریا کی پارلیمنٹ سپریم پیپلز اسمبلی ہی کرتی ہے۔ لیکن ورکرز پارٹی اور ان کے حامیوں کے زیر اثر شمالی کوریا کی پارلیمنٹ کو ربڑ سٹامپ پارلیمنٹ بھی کہا جاتا ہے۔ سرکاری طور پر باضابطہ اعلان سے مہینوں یا برسوں پہلے ہی رہنما کا انتخاب ہو جاتا ہے۔
کِم جونگ ان کے والد کم جونگ اِل سنہ 1994 میں شمالی کوریا کے بانی اور اپنے والد کم اِل سونگ کی وفات کے بعد رہنما بنے تھے۔ انھوں نے اپنی حکمرانی کے دوران شمالی کوریا کی سیاست میں کِم خاندان کے اہم کردار کو یقینی بنایا۔
انھوں نے ایک ایسا بیانیہ تیار کیا جس میں یہ کہا گیا کہ کِم خاندان کوریائی تہذیب کی پرورش کرنے والے مقدس کوہ آتش فشاں پیکٹو کے عظیم خاندان میں سے ایک ہے۔ انھوں نے اپنے خاندان کو اس مقام پر پہنچا دیا جس کے متعلق یہ عقیدہ بن گیا کہ اس خاندان کے لوگ حکمرانی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔
کِم اِل سونگ نے کم جونگ اِل کو اپنا جانشین منتخب کیا۔ اور پھر کِم جونگ اِل نے اپنے بیٹے کِم جونگ ان کو اقتدار سونپ دیا۔
کم جونگ ان کی اپنی فیملی ہے لیکن اب تک ان کی کسی اولاد کو عوام میں نہیں دیکھا گیا ہے۔ اور نہ ہی کسی کو اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ شمالی کوریا کے عوام کم جونگ ان کے بچوں کا نام تک نہیں جانتے۔
شمالی کوریا میں کم جونگ ان کی جگہ لینے کے لیے کسی کو بھی ممکنہ رہنما کے طور پر تیار نہیں کیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں کِم کی بے وقت رخصتی سے ایک خلا پیدا ہوگا جس کو پورا کرنا مشکل ہوگا۔

’رمضان میں کون سے مشروبات استعمال نہ کیے جائیں




سعودی عرب میں ڈاکٹروں اورخوراک کے ماہرین نے
 رمضان کے دوران بعض مشروبات استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے.
اخبار 24 کے مطابق ماہرین نے افطار میں سافٹ ڈرنکس استعمال نہ کیے جائیں. یہ معدے میں خرابی پیدا کرتے ہیں.ان کے پینے سے پیٹ بھر جانے کا احساس پیدا ہوتا ہے جبکہ پیٹ خالی ہوتا ہے. ان میں شوگر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے.
ٹھنڈے مشروبات جس میں گیس والے اور بغیر گیس والے دونوں شامل ہیں گلے میں تکلیف پیدا کرتے ہیں. معدے میں درد اور ہاضمے میں رکاوٹ بنتے ہیں. اگر یہ مشروبات خالی پیٹ لیے جائیں تو زیادہ نقصان دہ ہوجاتے ہیں.
شوگر والے مشروبات میں سے بعض مشروبات صحت بخش ہوتے ہیں مگر چینی کا اضافہ کرنے کی وجہ سے نقصان دہ ہوجاتے ہیں. مثال  کے طور پر کھجور کا مشروب اور انواع و اقسام کے پھلوں کے مشروب صحت  بخش ہوتے ہیں تاہم ان میں چینی سے یہ  مضر صحت ہوجاتے ہیں.
 ماہرین کا کہنا  ہے کہ ڈبوں والے مشروبات میں مضر صحت مادہ شامل ہوتا ہے. بہتر ہوگا کہ اس قسم کے مشروبات پھلوں یا قدرتی غذائی اشیا سے گھروں پر تیار کیے جائیں. ڈبوں والے مشروبات نہ استعمال کیے جائیں.
رمضان میں رائج بعض مشروبات افطار دسترخوان پر موجود ہوتے ہیں .ان میں الکرکدیہ، املی کا مشروب، السوس قابل ذکر ہیں.
ڈاکٹروں کا کہناہے کہ اگر یہ مشروبات گھروں میں صحت بخش طریقے سے تیار کیے جائیں اور ان میں چینی زیادہ میں نہ ڈالی جائے تو یہ استعمال کیے جاسکتے ہیں.
 طبی جائزوں سے افطار کے دوران پانی کا پینا نقصان دہ ثابت نہیں . کھانے کے دوران بھی پانی پیا جاسکتا ہے. اس سے کھانے میں وقفہ بھی آجاتا ہے اور اس بات کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ  پیٹ بھر گیا ہے یا نہیں. افطارکے  دوران پانی پینے سے غذائی اشیا کو جذب کرنے اور ہضم میں مدد ملتی ہے.
خوراک کے ماہرین اور ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ پانی زیادہ نہ پیا جائے. پانی  زیادہ پینے سے پیٹ بھرنے کا احساس پیدا ہوجاتا ہے. روزے دار افطار کے دوران کھانے سے محروم ہونے --
کے باعث مطلوبہ مقدار میں کھانا نہیں کھا پاتا

رمضان میں قوت مدافعت کو کیسے بڑھائیں؟



کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے قوتِ مدافعت کا مضبوط ہونا 

بہت ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق رمضان کے مہینے میں لوگوں کو اپنی غذا پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
رمضان میں اور خاص طور پر قوت مدافعت کو بہتر کرنے کے لیے کون سی غذا کا استعمال کیا جائے۔ یہ جاننے کے لیے اُردو نیوز نے پاکستان انسٹیویٹ آف میڈیا سائنسس کے معدہ و جگر کے ماہر ڈاکڑ وسیم خواجہ سے بات کی۔
وسیم خواجہ کہتے ہیں کہ 'اس وقت لوگوں کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ متوازن غذا کا استعمال کریں، پھل اور سبزیاں زیادہ کھائیں۔
انہوں نے بتایا کہ وٹامن سی قوت مدافعت کو مضبوط کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔ 'ایسے پھل سبزیوں کا استعمال کیا جائے جن میں وٹامن سی وافر مقدار میں موجود ہو۔ کسی اچھی کپمنی کی 
وٹامن سی کی گولیاں بھی لی جا سکتی ہیں۔
رمضان کا مہینہ ہو اور افطاری کے دسترخوان پر پکوڑے اور سموسے نہ ہوں تو لگتا ہے جیسے افطاری اُدھوری ہے مگر ہماری صحت کے لیے یہ تلی ہوئی چیزیں کتنی نقصان دہ ہیں اس بارے میں ڈاکڑ وسیم خواجہ نے بتایا کہ 'پورا دن بھوکا رہنے کے بعد فرائی چیزوں پر ٹوٹ پڑنا صحت کے لیے انتہائی مضر ہے'
اُنھوں نے کہا کہ 'کھجور اور پھل سے روزہ افطار کرنا چاہیے،پھر کچھ دیر بعد کھانا کھا لینا چاہیے۔
وسیم خواجہ نے ورزش کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان دنوں میں زیادہ تر افراد گھر پر ہیں تو انہیں چاہیے کہ افطاری کے بعد ورزش کریں تاکہ  جسم حرکت میں رہے اور کھانا ہضم ہو۔
انہوں نے گرم پانی پینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوت مدافعت کو بہتر بنانے میں انتہائی معاون ہے
ورونا وائرس کی وبا سے بچاو کی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ڈاکٹر وسیم نے کہا کہ 'لوگ دستانوں اور ماسک کو لے کر بے احتیاطی برت رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ ایک بار ماسک کو استعمال کر کے دوبارہ استعمال کرنا 
خطرناک ہوسکتا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ ماسک اور دستانوں کو استعمال کرنے کے بعد ڈیٹول سے دھویا جائے تو جراثیم اور کورونا مر جائے گا مگر ایسا کچھ نہیں ہے

سپین کے شہریوں نے سخت لاک ڈاؤن میں گھر سے باہر نکلنے کا انوکھا قانونی طریقہ اختیار کر لیا




سپین  کورونا وائرس سے سب سے زیادہ  متاثر ہونے والادوسرا بڑا ملک ہے۔ سپین کی حکومت نے اس وبا کے 


خاتمے کے لیے لوگوں سختی سے گھروں میں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے لیکن سپین کے لوگوں نے اس سرکاری پابندی سے نپٹنے کا انوکھا قانونی طریقہ نکال لیا ہے۔ سپین   کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سب لوگ اپنے گھروں میں رہیں  لیکن وہ اپنے پالتو جانوروں کو گھمانے  کے لیے باہر نکل سکتے  ہیں۔

بہت سے لوگ اس رعایت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مرغیوں ، مچھلیوں کے برتن  اور دیگر جانوروں کے ساتھ باہر گھومنے نکل رہے ہیں۔
سپینش نیشنل پولیس نے جمعے کو ایک تصویر  ٹوئٹ  کی، جس میں  ایک شخص کو مچھلی کے برتن کے ساتھ گھومتے دکھایا گیا۔ یہ ٹوئٹ کافی وائرل ہوگیا۔دوسروں کو خبردار کرنے کے لیے پولیس نےا س شخص کو جرمانہ بھی کر دیا


 اس کے بعد  ٹوئٹر پر بہت سی ایسی تصاویر شیئر کی گئی، جن میں لوگوں کو مرغیوں اور دوسرے جانوروں کے ساتھ گھومتے دکھایا گیا تھا



مارچ کے شروع میں ایک ایسے شخص کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی، جو  ایک کھلونا کتے کو گھما رہا تھا۔
بی بی سی کے مطابق سپین میں اتوار سے لاک ڈاؤن میں کچھ نرمی کی گئی ہے۔ 6  ہفتوں کے بعد پہلی  بار 14 سال سے کم عمر بچوں کو گھروں سے باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔لاک ڈاؤن کی دوسری پابندیاں اسی طرح برقرار ہیں  اور بچوں کے سکول بھی تاحال بند ہیں

آئی فون صارفین کے لئے واٹس ایپ نے نئی سہولت فراہم کردی، جانیے تفصیلات

واٹس ایپ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اینڈرائیڈ کے بعد اب آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے صارفین بھی بیک وقت 8 دوستوں کے ساتھ آڈیو یا ویڈیو کال پر بیک وقت بات کرسکیں گے
یاد رہے کہ چند روز قبل واٹس ایپ نے لاک ڈاؤن کے پیش نظر آڈیو ویڈیو کالنگ فیچر میں صارفین کی تعداد بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی کی جانب سے ویڈیو کالنگ میں صارفین کی گنجائش بڑھانے کے فیچر کو متعارف کرانے کے حوالے سے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
اب واٹس ایپ کی جانب سے یہ فیچر آئی او ایس صارفین کےلیے پیش کردیا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے صارفین اپنےایپل اسٹور سے واٹس ایپ کا اپ ڈیٹڈ ورژن ڈاؤن لوڈ کر کے اس فیچر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
واٹس ایپ کی گروپ کالنگ کے فیچر میں صرف اُس صارف کو ہی گروپ کال میں شامل کیا جاسکتاہے جس کے پاس اپ ڈیٹڈ ورژن موجود ہوگا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل واٹس ایپ کی جانب سے بیک وقت چار لوگوں کو ویڈیو یا آڈیو کالنگ پر بات کرنے کی سہولت دستیاب تھی

آن لائن بزنس کرنے والوں کیلئے انسٹاگرام نے نیا فیچر متعارف کروا دیا

کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ انسٹاگرام نے پاکستان سمیت دیگر ایشیائی ممالک کےلیے کرونا وائرس ڈاؤن کے دوران آن لائن بزنس کرنے والوں کی معاونت کےلیے نیا فیچر متعارف کرایا ہے
کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چھوٹے کاروباری حضرات کےلیے ایپلیکیشن میں نئے ٹولز دئیے گئے ہیں جس سے آن لائن بزنس کرنے والوں کو سیلز کافی مدد ملے گی۔
انسٹاگرام ایپلیکیشن میں ان نئے ٹولز کا آغاز رواں ماہ کی 25 تاریخ سے ہوچکا ہے، جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانی کاروباری افراد کو لاک ڈآؤن کے دوران پیش آنے والے مسائل میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام نے انٹرنیٹ براؤزر استعمال کرتے ہوئے انسٹاگرام پر دوستوں کو میسج کرنے کا فیچر متعارف کرایا تھا

وزیراعظم کا کورونا کی صورتحال میں6 لاکھ افراد کو روزگار دینے کا فیصل

اسلام آباد 28 اپریل 2020 وزیراعظم عمران خان نے کورونا کی صورتحال میں6 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا، گرین نگہبان پروگرام کی وزیراعظم نے منظوری دے دی، منصوبہ چاروں صوبوں میں شروع کیا جائے گا، گرین نگہبان میں کام کرنے والا یومیہ 800 روپے کما سکے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کورونا کی وبائی صورتحال میں روزگار کیلئے بڑا منصوبہ متعارف کروا دیا، وزیراعظم نے 6 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنے کیلئے گرین نگہبان پروگرام کی منظوری دے دی۔
گرین نگہبان پروگرام کی منظوری وزیر اعظم نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی۔ گرین نگہبان منصوبے کا افتتاح وزیراعظم عمران خان خود کریں گے۔ گرین نگہبان پروگرام سے کورونا وائرس کی صورتحال میں فوری ملازمتیں اورروزگار کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔
گرین نگہبان پروگرام بیک وقت چاروں صوبوں میں شروع کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کو منصوبے کی ذمہ داری سونپ دی۔
وزیراعظم گرین نگہبان پروگرام کے تحت دسمبر تک 2 لاکھ لوگوں کو نوکریاں فراہم کی جائیں گی۔ جبکہ آئندہ سال مزید 4 لاکھ افراد باعزت روزگار حاصل کرسکیں گے۔ گرین نگہبان منصوبے میں کام کرنے والا یومیہ 800 روپے کما سکے گا۔ گرین نگہبان پروگرام تین طرح کی ذمہ داری ادا کریں گے، اس سے شہروں کی صفائی بھی ممکن ہوسکے گی۔ جنگلات ، نرسریاں اور پارکس میں گرین نگہبان کی خدمات لی جائیں گی۔
گرین نگہبان پروگرام کے تحت درخت لگائے جائیں گے اور شہروں کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ بنایا جاسکے گا۔ مزید برآں وفاقی کابینہ نے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی امداد کی اسکیم کی منظوری دے دی۔ ذرائع کے مطابق اسکیم کے تحت چھوٹے کاروباروں کو بجلی بل میں ریلیف دی جائے گی ، چینی بحران انکوائری کمیشن کو تین ہفتے کی مہلت دے دی گئی۔ اجلاس میں ملک کی معاشی و سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ وفاقی حکومت چھوٹے کاروباری حضرات کیلئے 3 ماہ تک بجلی کا بل معاف کرے گی۔ اسی طرح کابینہ نے لمیٹڈ کمپنیوں -
میں ڈائریکٹرزکی خالی اسامیوں پر نامزدگیوں کی منظوری دے دی

Qasim auto decoration Khushab